Breaking News

دماغی کمزوری کی وجوہات اور مدد گا ر غذائیں


دماغ ہمارے جسم کا اہم حصہ ہے اس کے ذریعہ سے ہم جسم میں ہونے والی تما م تندیلوں کو محسوس اور کنٹرول کر سکتے ہیں ۔جسم میں دماغ انجن کا کام کرتاہے یعنی اگر انجن خراب ہو گا تو گاڑی ٹھیک نہیں چلے گی۔اس لیے جتنا ہمارا دماغ صحت مند ہو گا اتنے ہی بہتر طریقے سے ہمارے جسم کو کنٹرول کر سکے گا۔اچھی سوچ اور اچھے فیصلے کر سکے گا۔ماہر نفسیات کے مطابق جو لوگ نفسیاتی امراض کا شکار ہوتے ہیں ان کی بیمار ی ظاہر ی طور پر ان کے جسم پر نمودار ہو رہی ہوتی ہے مطلب یہ کے ان کا دماغ ٹھیک کام نہیں کر رہا ہوتا  کوئی نہ کوئی خرابی ضرور ہوتی ہے ۔کمزور دماغ والے افراد ہمیشہ مایوس ۔بے چین  اور محرومی کا احساس رکھتے ہیں ۔

 

آج 2020 میں سائنس سے بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ دماغ میں ہونے والی کمزوری کا علاج ادویات کی نسبت غذا سے بہتر کیا جا سکتا ہے البتہ کمزوری کی نوعیت کے مطابق غذا اور دوا دونوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے

 

دماغی کمزوری کیلئے کونسی غذا استعمال کی جائے ۔

جدید تحقیق کے مطابق فاسفورس دماغ کی تقویت کے لیے بہت ضروری ہے جو کہ ہمیں قدرت کی بنائی ہوئی بہت سے اشیاء میں سے حاصل ہو سکتا ہے

یعنی  مچھلی ۔انڈے ۔دودھ۔چنے ۔مغزیات ۔پستہ ۔بادام۔اخروٹ وغیرہ ۔ ان غذاوں میں دماغی مادہ پیدا کرنے کے اجزاء موجود ہوتے ہیں اور فاسفورس کی مقدار بھی باقی غذاوں سے زیادہ ہوتی ہے ۔ بادام اور بادام روغن مکھن اور پنیر خاص طور پر دماغ کے لیے ایک ٹانک ہیں ۔

 

دماغی کمزوری کی وجوہات ۔

دماغی محنت کا کام کرنے سے تھکاوٹ ہو جاتی ہے مگر جب اس سے مسلسل دن رات کام لیا جائے اور اس کی صحت کا خیال نہ رکھا جائے تو دماغی طور پر مختلف قسم کی کمزوری ہو سکتی ہے ۔ یعنی آپ اپنے کاربار یا آفس سے کام کر کے تھکے گھر آتےہیں جسم اور زہن سارے دن کی محنت سے تھکا ہوا ہوتا ہے

تو آتے ہی کھانا کھا کر سو جاتے ہیں یا ایک جگہ پر بیٹھ کر موبائل کا استعمال شروع کر دیتے ہیں پھر گھنٹوں کا بھی پتہ نہیں چلتا کیسے گزر جاتےہیں ۔ اس وقت پر موبائل کا استعمال کرنے سے ہماری ذہنی صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے ۔ایک تو سارے دن کی تھکاوٹ اور پھر موبائل پر سوشل میڈیا کی خبریں  



عام طور پر ہم لوگ اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس سے سر میں درد ہوتا رہتا ہے نیند ٹھیک طریقے سے نہیں آتی ۔منفی خیالات آتے ہیں چڑ چڑاپن  اور غصے والی کیفت رہتی ہے اور ہم کہتے ہیں کہ کوئی وجہ بھی نہیں ہے پر پتہ نہیں ڈپریشن کیوں ہے وجہ یہی ہے کے ہم اپنے دماغ کو آرام کا وقت نہیں دیتے اوربعد میں مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔


جو لوگ زیادہ ذہنی کام کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ زیادہ پھل اور ڈرائی فروٹس کا استعمال کریں اور اپنے دما غ کو مکمل ریسٹ دیں تا کہ زیادہ زہنی کام کے ساتھ اس کی صحت بھی برقرار رہے ایسے معاملات میں علاج سے پہلے احتیاط کی بہت ضرورت ہے اپنی عادات کو تبدیل کریں اور ساتھ ایسی غذائیں استعمال کریں کہ زہنی تھکاوٹ دور ہو۔

 

کوویوڈ 19  کے اس دور میں ہمیں اپنی اور اپنے پیار وں کی صحت کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے 






Tags:

کوئی تبصرے نہیں