Breaking News

اپنے بچوں کی نفسیا تی طور پر مضبو ط کریں بچوں کی زندگی کے پہلے اہم سال

اپنے  بچوں کی نفسیا تی طور پر مضبو ط کری بچوں کی ں  زندگی کے پہلے اہم سال  

 

ہمارے معاشرے میں تمام والدین کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ بچے کی پرورش کے لیے اس کی زندگی کے پہلے 7 سال بہت اہمیت کے حامل  ہوتے ہیں کسی بھی بچے کی زندگی کا ایک اہم مرحلہ ہوتا ہےبچوں میں ان کی نفسیات کو مضبوط کرنے کا بہت اچھا وقت ہوتا ہے اگر والدین چند پہلووں پر غور کریں

بچوں کی کردار سازی ان کی صلاحیتوں اور  اچھے مستقبل کی بنیا د اسی زمانے میں رکھی جاتی ہے ۔اس 7 سال میں کی گئی بچے کی تربیت اور اصلاح آپکے بچے کی زندگی بنا سکتی ہے یا بگاڑ سکتی ہے ۔

 

اس لیے والدین کیلئے ضروری ہے کہ بچوں پر ابتدائی سالوں میں تھوڑی محنت ضرور کریں اور ساری عمر بلکہ دنیاوی آخروی زندگی سنوار لیں ۔اپنے لاڈ اور پیار کی ایک حد تک محدود رکھیں اور اپنے بچوں کو کسی کے رحم و کرم پر نا چھوڑیں بلکہ ان کو وقت دیں تاکہ بچے اپنے والدین کی اہمیت کو پہچانیں ۔بچے کی ابتدائی درسگا اس کی ماں اور گھر ہوتا ہے۔

 

آج کہ اس آرٹیکل میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے چند اہم باتیں بتائی گئی ہیں جو کہ بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کے بہت مدد گار ثابت ہونگی

 

بچوں کی زہنی ۔جسمانی اوراخلاقی نشوونما کے لیے چند ہدایات

 

خاص طور پر اس دورانیہ میں بچوں پر نظر رکھیں وہ کیا کر رہے ہیں کس چیز کے ساتھ کھیل رہے ہیں

بچو ں کیساتھ نرمی سے پیش آیئں اور اگر کوئی غلطی ہو بھی جائے تو ایسا رویہ اختیار نہ کریں کہ جس سے بچہ احساس کمتری محسوس کرے ۔مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ بچوں کو سمجھائیں ۔

بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھیں اور اچھی اور صحت بخش غذائیں استعمال کروائیں مختلف بیماریوں سے بچانے کے لیے مکمل میڈیکل چیک اپ کرواتے رہیں

بچوں کو ہمیشہ کھلی گراونڈ میں کھیلنے کودنے کا موقع دیں جہاں پر گرینری زیادہ ہو ۔درخت زیادہ ہوں

ان کو وقت کی پابندی کا عادی بنائیں یعنی وقت پر سونا وقت پر جاگنا  وقت پر کھانا ۔ یہ عادت بچے کیے مستقبل کو نکھارتی ہے

روزانہ بچوں کیساتھ بیٹھ کر ان سے باتیں کریں ۔ان کے مطابق ان سے کھیلیں اگر بچے آپ سے کوئی بات کریں تو مکمل ان کی طرف دیھان دے کر ان کو بات کا جواب دیں

بچوں کو کبھی بھی ڈراونی ۔خوف زدہ کرنے والے فلم یا کہانی نہ سنائیں ایسی کہانیاں بچوں میں لمبے عرصے تک  خوف ہراس۔بے چینی اور عدم اعتما د پیدا کرسکتی  ہیں آپ ان کو اخلاقی قدروں والی کہانیاں سنائیں ۔

بچوں کو اخلاقی قدریں سیکھائیں  ۔اٹھنے بیٹھنے  اورکھانے پینے کے اداب سیکھائیں صفائی ستھرائی  واش روم جانے اور نہانے کا طریقہ بتائیں ۔

بچوں کے سامنے مستقبل اور معاشرے کی خوفناکی بیان نہ کریں البتہ کوئی ایسی غمگین با ت ہو بھی جائے تو ان کو احساس نہ ہونے دیں ۔

بچوں کے سامنے مایوسی اور نا امیدی کا اظہار نہ کریں ۔

بچوں کو موبائیل فون استعمال کرنے کی عادت نہ ڈالیں یہ عادت بچوں کو زہنی اور جسمانی بلکہ نفیاتی طور پر بہت زیادہ کمزور کرتی ہے ۔

بچوں کو ایسی محفل میں نہ جانے دیں چاہے وہ ضد کریں جہاں  جھوٹ اور  غیر اخلاقی  کاموں اور طریقوں پر  عمل کیا جار ہا ہو۔

 ان کی تعلیم کے حوالے سے ان کیساتھ مکمل رابطے میں رہیں آجکل بچوں کو سکول والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اب سکول والے ہی ان کی پرورش کریں ۔

بچوں کو ہر سوال کا مثبت اور مکمل جواب دیں ان کے سوال کرنے   پر ان مت ڈانٹیں  کیونکہ بچے کا دماغ اس وقت ہارڈ ڈرائیو ہے  جو بات اس میں آپ فیڈ کریں گے ۔وہ اسی انداز میں اس کے دماغ میں محفوظ رہے گی ۔اس لیے ضروری ہے کہ سچ پر مبنی جواب دیں

بچوں کو دین اسلام کی باتیں سکھائیں  ان کو خود بھی ان پر عمل کر کے دیکھائیں ۔

 

آجکل ہمارے معاشرے کے جو حالات ہیں وہ کسی بھی والدین سے چھپے نہیں ہیں آپکا بچہ اس دنیا میں مخصوص شناخت رکھتا ہے  اس کی اچھی دیکھ بھال  اور پرورش آ پکی زندگی کو چار چاند لگا سکتی ہے۔ بہت سے معملات ہماری تقدیر پر بھی منحصر ہوتے ہیں  مگر جو بنیادی باتیں والدین کو بتانا ضروری ہیں وہ لازمی بتائیں ۔  

 

 


Tags:

child health topics

what is child health care

child health status 

child health pdf

  child health nursing                    importance of child health and nutrition

   importance of child health pdf

  what is child health

  child health topics

    child health articles

    introduction to child health

    child health and wellbeing

  child health clinic

importance of child healthchild health and wellbeing 

 

 

  

کوئی تبصرے نہیں