خود لذتی( مشت زنی ) کے نقصانا ت اور نجات کا طریقہ
خود لذتی کے نقصانا ت اور نجات کا طریقہ۔
آجکل کے دور حاضر میں
سب سے بڑی بیماری جو بڑی تیزی سے اس پوری دنیا کا اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے
وہ خود لذتی یا مشت زنی ہے لوگ چاہتے نا چاہتے اس موذی مرض میں مبتلا ہو رہے
ہیں لاکھ کوششوں کے باوجود اس سے جان
چھڑانا مشکل ہوتا ہے ۔ لوگ شروع میں عادت کے طور پر اپنی جنسی خواہش کو پورا کرنے
کے لیے اپنے عضو خاص سے کھیلتے ہیں اور نادانی میں اس عمل کو اپنی زندگی کا حصہ
بنا کر ساری عمر کے لیے پچھتاتے رہتے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ یہ عمل جو کہ ظاہر ی
طور پر بہت معمولی نظر آتا ہے ایک موذی بیماری کی شکل اختیا ر کر لیتا ہے کچھ پتہ
بھی نہیں چلتا۔نوجوان سے لے کر بوڑھے اس عورت ہو یا مر د اس بیماری میں مبتلا ہے
اس کی پریشان کن بات یہ ہے کہ اس بیماری کے بارے کوئی کسی سے جلد ی بات نہیں کرتا
کہ مجھے یہ مسلہ ہے ۔با پ اپنے بیٹے سے چھپاتا ہے اور بیٹا اپنے باپ سے یہاں تک کے
پور ا خاندان اس بیماری کی زد میں ہوتا ہے ۔
کئی افراد بلوغت کی عمر میں اس بری علت سے جا ن چھڑا لیتے ہیں مگر80 فیصد لوگ اسے اپنی شادی کے بعد بھی جاری رکھتے ہیں اور مختلف قسم کی جسمانی روحانی۔زہنی بیماریوں کا شکا ر ہو جاتے ہیں ۔
خود لذتی کا رہجان کہاں سے شروع ہوا۔
خود لذتی یعنی مشت زنی کی عادت انسانوں اور جانورں دونوں
میں پائی جاتی ہے زمانہ جا ہلیت سے یہ عادت لوگوں میں چلی آ رہی ہے ۔قدیم مصر یوں
میں یہ عادت بطور تہوار منائی جاتی تھی مگر آہستہ آہستہ اس عادت کی وجہ سے ہونے
والے نقصانات کے بارے میں لوگوں کو آگاہی ہونے لگی مگر ہر ممکن کوشش کے بعد بھی اس
مرض سے جان چھڑانا مشکل ہوتا گیا ۔ ماہر جنسیا ت کے مطابق انسان کو جسمانی اور
زہنی راحت حاصل کرنے کے لیے اس کو جنسی خواہش کو پورا کرنا بہت ضروری ہے ۔ مگر جب
حد سے زیادہ انسان یہ خواہش پوری کرتا ہے تو یہ بیماری کی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔
اور اکثر لوگوں میں جنون کی حد تک اس خواہش کو پورا کرنے کی عادت ہوتی ہے حالانکہ
اسلام میں لوگوں کی اس خواہش کو پورا کرنے کے بارے میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ کس طریقے کن اوقات
اور کن ایام میں آپ جنسی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ۔بس یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسلام
اور قرآن کو صیح معنوں میں پڑھا ہی نہیں ۔ ہمارے اسلامی ممالک میں بھی آج مختلف
قسم کے اسکینڈل دیکھنے کو ملتے ہیں تمام مغربی ممالک اس بری عادت کی وجہ سے پریشان
ہیں اب ان کا سارا دھیان ان مسلم ممالک پر ہے کہ کسی طریقے سے ان لوگوں میں ایمان
کی طاقت کو کمزور کیا جائے تاکہ یہ فلاح نہ پا سکیں ۔
خود لذتی کے اسباب
یہ ایک قدری قانو ن
ہے کہ ہمارے جسم میں مختلف قسم کے مادے پیدا ہوتے ہیں جس سے ہمیں شہوت محسوس ہوتی
ہے انسان اس شہوت کو پورا کرنے کے لیے مختلف طریقوں کا استعمال کرتاہےابتدا میں جب
بچہ اپنی بلوغت کو پہنچتا ہے اس وقت وہ اپنے معاشرے سے بخوبی واقف ہوچکا ہوتا ہے
اپنے دوستوں ۔ٹی وی ڈراموں کے نازیبا سین۔موبائل اور انٹر نیٹ سے
ملنے والے اس مواد سے اس کے دل میں تجسس پیدا ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ اس
عمل کو کرنے کے لیے اپنی سوچ اور خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ جب کہیں سے بات نہیں بنتی تو وہ
اکیلا بند کمرے میں اپنی جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے خود لذتی جیسی موزی
بیماری میں پہلاقدم رکھتا ہے اور پھر یہ عمل اس کی زندگی کے لیے وبال جان بن جاتا
ہے یہاں تک کے بچہ اس غلط عادت کو مسلسل
اپنا کر اتنا نقصان کر لیتا ہے کہ شادی کے قابل بھی نہیں رہتا ۔ اور وہی گندے
خیالات اس کے زہن میں گھومتے رہتے ہیں ۔ اور اگر شادی ہو بھی جائے تو اپنے زہنی گند کی وجہ سے اپنی بیوی سے بھی ویسی
توقع رکھتا ہے جیسے اس نے فلموں ڈراموں میں دیکھا ہوتا ہے ۔
بہت سے شادی شدہ افراد شادی کے بعد بھی ایسی بر ی عادت میں
مبتلا رہتے ہیں مرد یہ شکائت کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کی بیوی خادند کے ساتھ تعاون
نہیں کرتی ۔بس وہ چپ چاپ اپنے خاوند کے ساتھ لیٹ جاتی ہے تا کہ خاوند کچھ دیر ملنے
کے بعد فارغ ہو جائے اور مجھ سے دور ہوجائے
۔اس لیے مرد حضرات کو یہ عمل کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے حالات میں بیوی کو چایئے کے اپنے
خاوند کے ساتھ جائز طریقے سے اسلامی حدود
میں رہ کر اسکا ساتھ دے تاکہ مرد کو مکمل طور پر جنسی تسکین حاصل ہو سکے اور
نفسیاتی و زہنی طور پر مطعمن ہو ۔ ایک اچھی بیوی ہی اپنے خاوند کی برائی کو
چھڑانے میں اس کا ساتھ دے سکتی ہے
خود لذتی کی عادت بیماری کی حد تک
آجکل سئکاٹرسٹ اس خود لذتی کی عادت کو جنسی تسکین اور فطری عمل کہتے ہیں مگر یہی عمل بعد میں ایک مرض کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور آہستہ آہستہ بہت دور نکل جاتے ہیں اور پھر واپس آنا مشکل ہوتا ہے اور ایک ایسا وقت بھی آتا ہے ایسے افراد کو نا تو خود لذتی سے کوئی تسکین ملتی ہے بلکہ نہ شادی کے قابل رہتے ہیں اور نہ اپنی بیوی کی تسکین پوری کر سکتے ہیں ۔بہت سے گھروں میں اسی وجہ سے لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں خاوند بیوی کو اور بیوی خاوند کو قصور وار ٹھہراتی ہے اگر دونوں میں سے کوئی بات نہ کرے تو ساری عمر ڈپریشن اور پریشانی میں گزار دیتے ہیں جس کی وجہ صرف اور صرف یہ خود لذتی ہوتی ہے ۔جدید ریسرچ کے مطابق مشت زنی کی عادت ایک ایسا نشہ بن جاتی ہے کہ دنیا کے تمام نشے چاہے افیون ۔چرس۔بھنگ ہو اس کے سامنے چھوٹے نظر آتے ہیں انسان پاگل تک ہو جاتا ہے ۔یہ ایک ایسا نشہ ہے جس سے انسان خود بھی برباد ہوتا ہے اور اس کی کئی نسلیں اس بری عادت کو اپناتے تباہ برباد ہو جاتی ہیں ۔
اسلام اور خود لذتی کی عادت ۔
اسلام میں مشت زنی کی مکمل طور پر ممانعت ہے جس طرح یہ
انسان کو جسمانی نقصان پہنچاتی ہے اسی طرح روحانی طور پر اس کے بڑے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔انسان اپنے خالق و
مالک سے دور تر ہوتا جاتا ہے یہاں تک کے کوئی عذاب بیماری کی شکل میں اس پر ظاہر
ہوجائے ۔بظاہر یہ ایک فطری عمل ہے مگر اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالی ٰ کی متعین کی گئی حدود میں رہ کر کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی بھی حاصل ہو اور
خواہش بھی پوری ہو جائے۔ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ""جب
تم بلوغت کی عمر کو پہنچو تو نکاح کا راستہ اختیا ر کرو اگر نکاح کی استتاط نہیں
ہے تو جب تک نکاح نہ کر سکو تو روزے رکھو تا کہ اپنے نفس پر قابو پائے رکھو""۔ اللہ تعالی ٰ نے انسان کو پیدا کیا اس کی زندگی
گزارنے کے لیے عقل عطا فرمائی تاکہ وہ خوش اسلوبی سے اپنے کام سر انجام دے سکے ۔یہ
بات واضح ہےکہ اللہ تعالی ٰ نے نکاح کے بعد بھی اپنی عورتوں سے ہم بستری کرنے کا
طریقہ بتایا کہ کن ایام میں خاوند اپنی
بیویوں کے پاس جا سکتے ہیں اور کیسے جا سکتے ہیں قرآن پاک میں ارشا د ہے کہ ""کامیاب
ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کی اصلاح کی اس کو پاک کیا۔" " نفس سے مراد
باطن ہے یعنی اپنی خواہشات ۔سوچوں ۔احساسات ۔جذبات کو پاک رکھنا آنکھوں اور دل میں
حیا پیدا کرنا ۔اس عارضی دنیا میں حقیقت پسندانہ
رویہ اختیار کریں اور اپنے اللہ کی نافرمانی سے بچیں ۔جو ذات آپکی سوچوں تک
کو پاک کرنا چاہتی ہے ذراسوچیں وہ آپ سے کتنا پیار کرتی ہے ۔آپکو کامیاب کرنا
چاہتی ہے ۔اور آپ لوگ اس خود لذتی کی وجہ سے اپنا ظاہر بھی گندا کر رہے ہیں اور
اپنا باطن بھی۔
واضح رہے کہ آجکل بہت سے انٹی اسلام گروپس پوری دنیا میں
شیطانی طاقتوں سے مل کر مسلمانوں کو راہ حق سے ہٹانے کے لیے مصروف عمل ہیں
مسلمانوں سے ایمان کی دولت سے محروم کر کے ذلیل اور رسوا کرنا چاہتے ہیں واحیاتی کلچر کو فروغ دے کر ٹی وی ڈراموں ۔
فلموں اور خاص طور پر انٹر نیٹ شوشل میڈیا کا سہارا لے کر فحاشی عریانی کو عام کیا
جا رہا ہے ۔شیطان ظاہری طورپر حملہ آور تو نہیں ہوتا مگر وسوسے اور گندے خیالات
ہمارے دل و دماغ میں ڈالتا رہتا ہے اور بالاآخر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا
ہے کیونکہ وہ معاشرے اور حالات کے عین
مطابق حملہ کرتا ہے اور ہمارا دماغ اس بات
کے تسلیم کر لیتا ہے کہ کوئی بات نہیں سارے کرتے ہیں آج تم بھی کر لو دیکھا جائے
گا۔ اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے ۔
اللہ تعالی ٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ ""
لوگو شیطان تمھیں تنگدستی اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے "" مطلب بے حیائی
والے کا م شیطان کی سر پرستی میں ہوتے ہیں اور اس سے ہمیں بچنا ہے اور کامیاب ہونا
ہے مگر ادھر صورت حا ل کچھ مختلف نظر آتی ہے ۔ہم قرآن سے مدد لینے کی بجائے اللہ
تعالیٰ سے معافی طلب کرنے کی بجائے اور اسباب استعمال کر کے اس مسلے کا حل کرنا
چاہتے ہیں اورناکام رہتے ہیں ہمارے گلی محلوں اور بازاروں کا حال ایسا ہے کہ ہم نا
چاہتے ہوئے شیطان کے اس جال میں پھنس جاتے ہیں ۔ہمارے گھروں میں ناچ گانے ۔ شادی بیاہ
کے مواقع پر خوشی کی مد میں بے حیائی عام معمول ہے بازاروں میں عورتوں کا لباس ایسا
ہوتا ہے کہ جیسے بے حیائی کا مرکز کھلا ہو۔آجکل مسلمان اللہ کو تو مانتے ہیں پر
اللہ تعالیٰ کی نہیں مانتے
ہمیں چایئے کہ اپنے نفس کی غلامی کی بجائے اللہ تعالیٰ کی
غلامی اختیار کریں وہ بڑا مہربان نہائت رحم کرنے والا ہے
خود لذتی کے روحانی نقصانات اگر توبہ نہ کی جائے
اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کی شفاعت نصیب نہیں ہوتی
اللہ تعالی ٰ کی رحمت سے دوری ہو جاتی ہے بندہ دنیا و آخرت
میں رسوا ہوتا ہے
دل کو سکوں نہیں ملتا ۔ہر وقت بے چینی گھبراہٹ رہتی ہے
یہ عادت نسل در نسل چلتی ہے
دنیا میں غربت افلاس اور تنگدستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے
اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا بنیادی سبب بنتا ہے
خودلذتی کے جسمانی نقصانات
ایسے افراد جو بہت زیادہ خودلذتی کی عادت میں پڑجاتے ہیں وہ
جسمانی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں
ایسے افراد تنہائی پسند ہو جاتے ہیں رشتہ داروں سے نہیں
ملتے ان کے کوئی دوست نہیں ہوتے اکیلا رہنا پسند کرتے ہیں
ہر وقت مایوس اور پریشان رہتے ہیں
نفسیاتی طور پر بہت کمزور اور ڈرے ہوئے ہوتے ہیں ۔کسی کام
میں دل نہیں لگتا
چہرے کی رنگت پیلی پڑ جاتی ہے آنکھیں اند دھنس جاتی ہیں
مردانہ کمزوری بہت زیادہ ہو جاتی ہے شادی کا قابل نہیں رہتے
۔شادی کے نام سے ڈرتے ہیں
اکثر سر درد اور سر چکرانےکی شکائت کرتے ہیں
غصہ اور چڑ چڑاپن بہت زیادہ ہوتا ہے پاگل پن غالب آجاتا ہے
ایسے افراد معاشرے میں سر اٹھا کر نہیں چلتے ۔ عورتوں سے
نفرت کرنے لگتے ہیں ۔
جسم ہر وقت نڈھا ل اور زہن معذور ہو جاتا ہے اپنے رشتوں کی
پہچان بھی نہیں رہتی ۔
بہت زیادہ حساسیات کی وجہ سے ذراسی شہوت آنے پر فارغ ہو
جاتے ہیں ۔
خود لذتی سے چھٹکارا پانے کے روحانی طریقے
نمازوں کی پابندی کی جائے نا چاہتے ہوئے بھی مستقل مزاجی سے
قرآن پاک کی تلاوت کی جائے
روزانہ کی بنیاد پر اللہ تعالی ٰ سے عاجزی کیساتھ معافی
مانگیں اور سچی توبہ کریں
کسی روحانی معالج کے پاس جا کر اپنے مسلے کا حل کروائے ۔تا
کہ نفس کی اصلاح ہو سکے
کوشش کریں اکیلے نہ رہیں ۔فحش فلموں اور ڈراموں ۔خاص طور پر
انٹر نیٹ کے استعمال سے مکمل طور پر پرہیز کریں
ایسی محفلوں میں نہ جائیں جہاں بے حیائی عام ہو
اللہ تعالی ٰ سے اپنی غلطی کے بارے میں اپنے دل کے اندر
باتیں کریں
خود کو پاک رکھیں ۔غسل کرنے کی عادت بنائیں ۔
اپنی سوچوں کو پاک رکھنے کی کوشش کریں اپنی نگاہوں کا غلط
استعمال نہ کریں ۔
خود لذتی سے چھٹکارا پانے کے جسمانی طریقے
خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کریں
خود اس بات کو تسلیم کرلیں کہ مجھ سے غلطی ہو گئی بس میں نے
اب اسے ٹھیک کرنا ہے ۔اس پر دل ہی دل میں رنجیدہ نہ ہوں ۔عہد کریں اب نہیں کرنا
بادی چیزوں کے استعمال سے پرہیز کریں اسے شہوت ابھرتی ہے ۔پیٹ
بھر کر کھانا نہ کھائیں
روزانہ کی بنیاد پر خود کو کوئی ٹاسک دیں اور اس کو پورا
کریں ۔ خود اعتمادی بحال ہوگی
گھبرائیں نہیں بلکہ مثبت دماغ کے ساتھ سوچیں کے یہ عمل آپ
سے کیوں با ر با ر ہو جاتا ہے ۔آپ اسکے سامنے اتنے بے بس کیوں ہیں ۔
جب بھی آپکا دل دماغ ایسا کرنے کو کہے تو اس کام کو فوراٰٰ
نہ کریں بلکہ لیٹ کرتے جائیں اور خود کسی اور کام میں مصروف ہو جائیں ۔
اللہ تعالی ٰ کے بارے میں سوچیں کہ اللہ نے ہم پر اتنی
نوازشیں کی ہیں میں کیوں اس رحیم کریم کی نافرمانی کرنے لگا ہوں ۔
اپنی صحت کے بارے میں اس وقت سوچیں۔
سوچیں کہ یہ ایک شیطانی عمل ہے شیطان مجھ سے یہ برا عمل
کراونا چاہتا ہے میں نہیں کروں گا۔عہد کریں بار بار خود سے
اپنے دماغ کو غور سے سمجھیں کہ کیوں اتنا بھولنے کی کوشش کے
باوجو د اس میں یہ برائی کرنے کا خیال آتا ہے ۔اس کی مشق کریں۔
ہمار ا دماغ ایک ربوٹ کی طرح کام کرتا ہے ۔ اس میں جو فیڈ
ہو گا وہ بار بار پلے ہوگا۔ آپ اس سے گندے خیالات کو ڈلیٹ کر کے اچھے ڈالیں جیسے
آپ نے اتنے سالوں سے گندے خیالات ڈالے تھے
۔ آہستہ آہستہ اس کو اچھے خیالات پلے کرنے کی عادت ڈل جائے گی۔
چھوٹے چھوٹے گولز بنائیں اور ان کو پورا کریں
نوٹ۔
جتنی شدت سے شیطان آپ پر حملہ آور ہو کر نفس کے ساتھ مل کر یہ کام کرواتاہے اتنی ہی شدت سے اپنے اللہ کی بارگاہ میں گڑ گڑاکر توبہ کریں اور اگر تما احتاطی تدابیر کرنے کے باوجود وہ پھرحملہ کرے تو پھر اپنے اللہ کی بارگاہ میں جائیں یہاں تک کے آپکا نفس تھک جائے ہار مان جاے ۔اور اپنے اللہ سے دعا کریں اے اللہ تو نے ہمارے نفسوں کو پیدا کیا ہے ہم اپنی غلطیوں کی وجہ سے اس کے جال میں پھنس گئے ہیں اور ہمیں کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ہماری مدد فرما ۔ہمارے نفس کی اصلاح فرما ۔ آپ نے جتنے بھی گناہ کیے ہیں جو بھی کیا ہے اللہ تعالی سے سچے دل سے توبہ کریں انشااللہ آپکو نفس پر فتح نصیب ہو گی۔
Tags:
Porn addiction, sex addiction, masturbation addiction, practical tips stop masturbation, how to stop
healthy life, stop watching porn,masturbation effects, how to overcome masturbation, side effects,
solution for porn addiction,evil sign, pornography,how to stop watching porn good, porn side effects,
new research to stop masturbation, tips 2020 stop porn, tips 2020 stop masturbation,




Nice Topic ... Helpful
جواب دیںحذف کریں